en-USur-PK
  |  
12

انصاف

posted on
انصاف
<body data-gramm_id="f382e1dd-138f-2be1-3fcd-b16a8705edd3" data-gramm="true" spellcheck="false" data-gramm_editor="true" contenteditable="true">

انصاف ، فساد ، خدا تعالیٰ سے بحالی کی راہ ۰( آج کا عمل آخرت کا پھل ؟)

خدا تعالیٰ فساد اور فسادیوں کو پسند نہپیں کرتا فرمان قران ۲۸ سورۃ القصص ، 77 ، محمد جوناگڑھی
اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے۔ ( آج کاعمل،آخرت کا پھل)

لڑائی جھگروں کی حقیقی وجوھات (غیر خدائی خواھشاات و بری نیت ) : یعقوب کا خط باب 4 ،

1تُم میں لڑائِیاں اور جھگڑے کہاں سے آ گئے؟ کیا اُن خواہِشوں سے نہیں جو تُمہارے اعضا میں فساد کرتی ہیں؟۔ 2تُم خواہِش کرتے ہو اور تُمہیں مِلتا نہیں ۔ خُون اور حسد کرتے ہو اور کُچھ حاصِل نہیں کر سکتے ۔ تُم جھگڑتے اور لڑتے ہو ۔ تُمہیں اِس لِئے نہیں مِلتا کہ مانگتے نہیں۔ 3تُم مانگتے ہو اور پاتے نہیں اِس لِئے کہ بُری نِیّت سے مانگتے ہو تاکہ اپنی عَیش و عِشرت میں خرچ کرو۔ ( کس کو کیا فائدہ پہچ رھا ہے ان تمام فسادات اور جھگڑوں سے سوچیں ؟)
دین میں جبر نہیں سورۃ ۲ البقرہ 256 , محمد جوناگڑھی
دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے وا، جاننے وا ہے۔ (فرمان قرآن کوئی زبردستی نہیں پھر زبردستی اور فساد کس تعلیم کی روشنی میں ؟)
خدا تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ا ور انصاف کا حکم دیتا ہے سورۃ نمبر4 النساۢ ،۱۳۵ (ترجمعہ قران ڈاٹکام ) محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مو کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وه خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے، وه شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیاده تعلق ہے، اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے ( انصاف کو چھوڑ نہ دینا ھر صورت)
اِنصاف اور صاف گوئی کا حکم توریت خروج کی کتاب باب ۲۳ ،
1
تُو جُھوٹی بات نہ پَھیلانا اور ناراست گواہ ہونے کے لِئے شرِیروں کا ساتھ نہ دینا۔ 2بُرائی کرنے کے لِئے کِسی بِھیڑ کی پَیروی نہ کرنا اور نہ کِسی مُقدّمہ میں اِنصاف کا خُون کرانے کے لِئے بِھیڑ کا مُنہ دیکھ کر کُچھ کہنا۔ 3اور نہ مُقدّمہ میں کنگال کی طرف داری کرنا۔
4
اگر تیرے دُشمن کا بَیل یا گدھا تُجھے بھٹکتا ہُؤا مِلے تو تُو ضرُور اُسے اُس کے پاس پھیر کر لے آنا۔ 5اگر تُو اپنے دُشمن کے گدھے کو بوجھ کے نِیچے دبا ہُؤا دیکھے اور اُس کی مدد کرنے کو جی بھی نہ چاہتا ہو تَو بھی ضرُور اُسے مدد دینا۔6تُو اپنے کنگال لوگوں کے مُقدّمہ میں اِنصاف کا خُون نہ کرنا۔ 7جُھوٹے مُعاملہ سے دُور رہنا اور بے گُناہوں اور صادِقوں کو قتل نہ کرنا کیونکہ مَیں شرِیر کو راست نہیں ٹھہراؤُں گا۔ 8تُو رِشوت نہ لینا کیونکہ رِشوت بِیناؤں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادِقوں کی باتوں کو پلٹ دیتی ہے۔
9
اور پردیسی پر ظُلم نہ کرنا کیونکہ تُم پردیسی کے دِل کو جانتے ہو اِس لِئے کہ تُم خُود بھی مُلکِ مِصر میں پردیسی تھے۔
بحالی وبرکت کی راہ ؟ ۲ تواریخ باب 7
12
اور خُداوند رات کو سُلیما ن پر ظاہِر ہُؤا اور اُس سے کہا کہ مَیں نے تیری دُعا سُنی اور اِس جگہ کو اپنے واسطے چُن لِیا کہ یہ قُربانی کا گھر ہو۔ 13اگر مَیں آسمان کو بند کر دُوں کہ بارِش نہ ہو یا ٹِڈّیوں کو حُکم دُوں کہ مُلک کو اُجاڑ ڈالیں یا اپنے لوگوں کے درمِیان وبا بھیجُوں۔ 14تب اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دِیدار کے طالِب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پِھریں تو مَیں آسمان پر سے سُن کر اُن کا گُناہ مُعاف کرُوں گا اور اُن کے مُلک کو بحال کر دُوں گا۔ 15اب سے جو دُعا اِس جگہ کی جائے گی اُس پر میری آنکھیں کُھلی اور میرے کان لگے رہیں گے۔ ( شرط تقاضہ بحالی کے لئے ، خاکسارہونا ، دعا کریں، خدا کے طالب ہوں بری راہوں سے پھریں، آسمان سے سنی جائے گی ، گناہ کی معافی ہوگی ، ملک بحال ہوگا۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات, اسلام, مُحمد | Tags: | Comments (0) | View Count: (271)

Post a Comment

English Blog